28-har shai ko nazar se---ہر شے کو نظر سے تکتا ہوں
غزل
ہر شے کو نظر سے تکتا ہوں
میں دیدۂِ بینا رکھتا ہوں
کیا اندر ہے کیا باہر ہے
ہر بات کو خوب سمجھتا ہوں
جذبات پہ مجھ کو قابو ہے
میں سنبھل سنبھل کر چلتا ہوں
حکمت کے تقاضے کیا کیا ہیں
معلوم ہے یہ بھی جانتا ہوں
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے
خوِد اپنے حال پہ ہنستا ہوں
نہیں قول و فعل میں فرق کوئی
جو کہتا ہوں وہ کرتا ہوں
سچائی کا دعوے دار بھی ہوں
سچ بولتا ہوں سچ لکھتا ہوں
ہوں ضمیر کا آئنہ دار عاکف
ہر شے کو نظر سے تکتا ہوں
میں دیدۂِ بینا رکھتا ہوں
کیا اندر ہے کیا باہر ہے
ہر بات کو خوب سمجھتا ہوں
جذبات پہ مجھ کو قابو ہے
میں سنبھل سنبھل کر چلتا ہوں
حکمت کے تقاضے کیا کیا ہیں
معلوم ہے یہ بھی جانتا ہوں
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے
خوِد اپنے حال پہ ہنستا ہوں
نہیں قول و فعل میں فرق کوئی
جو کہتا ہوں وہ کرتا ہوں
سچائی کا دعوے دار بھی ہوں
سچ بولتا ہوں سچ لکھتا ہوں
ہوں ضمیر کا آئنہ دار عاکف
جو ہوں وہ سب کو دکھتا ہوں
عاکف غنی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں