ایک طویل عرصے سے پیرس میں مقیم ہوں، پاکستان کا چکر لگتا رہتا ہے مگر یہ پہلا موقع ہے کہ رمضان کا ابتدائی حصہ پاکستان میں گزرے گا۔سحری سے بہت دیر پہلے مسجد کے سپیکر مولانا کی آواز نے اٹھا دیا، حالانکہ میں نے تو سحری تیار کرنی نہیں تھی ۔ دوبارہ سونے کی کوشش کی تو پھر سے مولانا کی آوا ز یاد دہانی کراتے ہوئے کانوں سے ٹکرائی کہ اتنا وقت رہ گیا ہے سحری میں ، ابے ایک دفعہ اٹھا دیا تو بار بار کیوں تنگ کرتے ہو۔ کل تک جس لاؤڈ اسپیکر کو حرام قرار دیتے تھے اسی سے ہماری جان کھائے جا رہے ہو۔ سحری پہ اٹھنے کے لئے موبائل ہے نا، موبائل پہ ہم اپنی مرضی کا الارم لگا سکتے ہیں اور سحری کے لئے ضروری نہیں کہ گھنٹوں پہلے اٹھا جائے یہ کام جھٹ پٹ بھی ہو سکتا ہے۔
اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
آٗننے بیچتا تھا وہ۔۔۔ایک غزل
سیلابی آفت اور پاکستان کا نیرو
سیلابی آفت اور پاکستان کا نیرو عاکف غنی روم جل رہا تھا اور نیر وبنسری بجا رہا تھا یہ فقرہ اتنا مشہور ہو چکا ہے کہ روم کی اس آگ کا تو شائد ہی کسی کو معلوم ہو جس نے چھ دن میں روم شہر کے چودہ میں سے دس اضلاع کو جلا کر خاکستر کر دیا اور ان میں سے تین کا تو نام و نشان بھی باقی نہیں بچا تھا اس وقت روم کا شہنشاہ نیرو تھا جو کہ متنازعہ شخصیت تھا اور یہ متنازعہ شخصیت ایک فرضی کردار نہیں بلکہ تاریخ کا ایک حقیقی کردار تھا۔ نیروسلطنت روم کا شہنشاہ تھا جو پانچواں اور آخری سیزر ثابت ہوا۔ نیرو حادثاتی طور پر تخت نشیں ہوا۔ یہ شہنشاہ کلاڈیس کا بھتیجا تھا جس نے اپنے بھتیجے کو اپنا جانشیں مقرر کیا۔ نیرو 15 دسمبر 37ء کو پیدا ہوا۔ 54 ء سے 68ء تک روم کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ مؤرخ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ ظلم و سفاکی اور بے حسی میں شہرت رکھتا تھا۔ اپنی ماں ،دو بیویوں اور اپنے محسن کلاڈیس کے بیٹے کو قتل کرایا۔ 68 ء میں فوج نے بغاوت کر دی تو شہنشاہ معظم ملک سے بھاگ نکلے۔ سینٹ نے ان کو موت کی سزا سنائی لیکن اس نے پھانسی سے قبل صرف 31 سال کی عم...

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں